Mother Teresa of Pakistan “Dr Ruth Pfau”

0
846

یہ خاتون جرمنی کے شہر لائزگ کی رھنے والی تھی۔ پیشے کے لحاظ سے یہ ڈاکٹر تھیں۔

سن 1958ء کی بات ھے ان خاتون نے 30 سال کی عمر میں پاکستان میں کوڑھ (جزام) کے مریضوں کے بارے میں ایک فلم دیکھی، کوڑھ اچھوت مرض ہے جس میں مریض کا جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے، جسم میں پیپ پڑجاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انسان کا گوشت ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگتا ہے-

کوڑھی کے جسم سے شدید بو بھی آتی ہے، کوڑھی اپنے اعضاء کو بچانے کے لیے ہاتھوں، ٹانگوں اور منہ کو کپڑے کی بڑی بڑی پٹیوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں-

یہ مرض لا علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ جس انسان کو کوڑھ لاحق ہو جاتا تھا اسے شہر سے باہر پھینک دیا جاتا تھا اور وہ ویرانوں میں سسک سسک کر دم توڑ دیتا تھا۔

پاکستان میں 1960ء تک کوڑھ کے ہزاروں مریض موجود تھے- یہ مرض تیزی سے پھیل رہا تھا، ملک کے مختلف مخیرحضرات نے کوڑھیوں کے لیے شہروں سے باہر رہائش گاہیں تعمیر کرا دی تھیں۔
یہ رہائش گاہیں کوڑھی احاطے کہلاتی تھیں۔ لوگ آنکھ، منہ اور ناک لپیٹ کر ان احاطوں کے قریب سے گزرتے تھے۔ لوگ مریضوں کے لیے کھانا دیواروں کے باہر سے اندر پھینک دیتے تھے اور یہ بیچارے مٹی اورکیچڑ میں لتھڑی ہوئی روٹیاں جھاڑ کر کھا لیتے تھے۔

ملک کے قریباً تمام شہروں میں کوڑھی احاطے تھے۔ پاکستان میں کوڑھ کو ناقابل علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ کوڑھ یا جزام کے شکار مریض کے پاس دو ہی راستے ہوتے تھے وہ یہ کے یا تو سسک کر جان دے دیں یا خود کشی کر لیں۔

یہ انتہائی جاذب نظر اور توانائی سے بھر پور خاتون تھی اور یہ یورپ کے شاندار ترین ملک جرمنی کی شہری تھیں۔ زندگی کی خوبصورتیاں اس کے راستے میں بکھری ہوئی تھیں لیکن انہوں نے اس وقت ایک عجیب فیصلہ کیا‘ یہ جرمنی سے کراچی آئیں اور انہوں نے پاکستان میں کوڑھ کے مرض کے خلاف جہاد شروع کر دیا۔

اور یہ اس کے بعد واپس نہیں گئین۔ انہوں نے پاکستان کے کوڑھیوں کے لیے اپنا ملک، اپنی جوانی، اپنا خاندان اور اپنی زندگی تیاگ دی۔ انہوں نے کراچی ریلوے اسٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ پر چھوٹا سا سینٹر بنایا اور کوڑھیوں کا علاج شروع کر دیا۔

کوڑھ کے مریضوں اور ان کے لواحقین نے اس فرشتہ صفت خاتون کو حیرت سے دیکھا کیونکہ اس وقت تک کوڑھ کو اﷲ کا عذاب سمجھا جاتا تھا‘ لوگوں کا خیال تھا یہ گناہوں اور جرائم کی سزا ہے۔ چنانچہ لوگ ان مریضوں کو گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے تنہا چھوڑ دیتے تھے۔ ان کے لیے پہلا چیلنج اس تصور کا خاتمہ تھا۔ انھیں بیماری کو بیماری ثابت کرنے میں بہت وقت لگ گیا اور اس کے بعد مریضوں کے علاج کا سلسلہ شروع ہوا۔

یہ عظیم خاتون اپنے ہاتھوں سے ان کوڑھیوں کو دوا بھی کھلاتی تھی اور ان کی مرہم پٹی بھی کرتی تھی۔ جن کو ان کے سگے بھی چھوڑ گئے تھے۔اس کا جذبہ نیک اور نیت صاف تھی چنانچہ ﷲ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں شفا دی۔ یہ مریضوں کا علاج کرتی اور کوڑھیوں کا کوڑھ ختم ہو جاتا۔

اس دوران ڈاکٹر آئی کے گل نے بھی انھیں جوائن کر لیا۔ ان دونوں نے کراچی میں 1963ء میں میری لپریسی سینٹر بنایا اور مریضوں کی خدمت شروع کردی۔ ان دونوں نے پاکستانی ڈاکٹروں، سوشل ورکرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی ٹریننگ کا آغاز بھی کر دیا ۔ یوں یہ سینٹر 1965ء تک اسپتال کی شکل اختیار کر گیا۔

انہوں نے جزام کے خلاف آگاہی کے لیے سوشل ایکشن پروگرام شروع کیا۔ ڈاکٹر کے دوستوں نے چندہ دیا لیکن اس کے باوجود ستر لاکھ روپے کم ہو گئے‘ یہ واپس جرمنی گئیں اور جھولی پھیلا کر کھڑی ہو گئیں۔ جرمنی کے شہریوں نے ستر لاکھ روپے دے دیے اور یوں پاکستان میں جزام کے خلاف انقلاب آ گیا۔

وہ پاکستان میں جزام کے سینٹر بناتی چلی گئی یہاں تک کہ ان سینٹر کی تعداد 156 تک پہنچ گئی۔ ڈاکٹر نے اس دوران 60 ہزار سے زائد مریضوں کو زندگی دی۔ یہ لوگ نہ صرف کوڑھ کے مرض سے صحت یاب ہو گئے بلکہ یہ لوگ عام انسانوں کی طرح زندگی بھی گزارنے لگے۔
ان کی کوششوں سے سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے جزام ختم ہو گیا اور عالمی ادارہ صحت نے 1996ء میں پاکستان کو “لپریسی کنٹرولڈ” ملک قرار دے دیا۔ پاکستان ایشیا کا پہلا ملک تھا جس میں جزام کنٹرول ہوا تھا۔

یہ لوگ اب قبائلی علاقے اور ہزارہ میں جزام کا پیچھا کر رہے ہیں اور ان کا خیال ہے اگلے چند برسوں میں پاکستان سے جزام کے جراثیم تک ختم ہو جائیں گے۔

حکومت نے 1988ء میں ان کو پاکستان کی شہریت دے دی۔ انہیں ہلال پاکستان، ستارہ قائداعظم، ہلال امتیاز اور جناح ایوارڈ بھی دیا گیا اور نشان قائداعظم سے بھی نوازا گیا۔ آغا خان یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ بھی دیا۔

جرمنی کی حکومت نے بھی اسے آرڈر آف میرٹ سے نوازا۔ یہ تمام اعزازات۔ یہ تمام ایوارڈ بہت شاندار ہیں لیکن یہ فرشتہ صفت خاتون اس سے کہیں زیادہ “ڈیزرو” کرتی ہیں۔

جوانی میں اپنا وہ وطن چھوڑ دینا جہاں آباد ہونے کے لیے تیسری دنیا کے لاکھوں لوگ جان کی بازی لگا دیتے ہیں اور اس ملک میں آ جانا جہاں نظریات اور عادات کی بنیاد پر اختلاف نہیں کیا جاتا بلکہ انسانوں کو مذہب اور عقیدت کی بنیاد پر اچھا یا برا سمجھا جاتا ہے۔ جس میں لوگ خود کو زیادہ اچھا مسلمان ثابت کرنے کے لیے دوسروں کو بلا خوف کافر قرار دے دیتے ہیں۔

ان کا نام ڈاکٹر روتھ فاؤ ہے۔

ڈاکٹر روتھ کا عین جوانی میں جرمنی سے اس پاکستان میں آ جانا اور اپنی زندگی اجنبی ملک کے ایسے مریضوں پر خرچ کر دینا جنھیں ان کے اپنے خونی رشتے دار بھی چھوڑ جاتے ہیں واقعی انمول ہے ۔

ڈاکٹر روتھ اس ملک کے ہر اس شہری کی محسن ہیں جو کوڑھ کا مریض تھا یا جس کا کوئی عزیز رشتے دار اس موذی مرض میں مبتلا تھا یا جو اس موذی مرض کا شکار ہو سکتا تھا۔

ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے یہ خاتون، اس کی ساتھی سسٹر بیرنس اور ڈاکٹر آئی کے گل پاکستان نہ آتے اور اپنی زندگی اور وسائل اس ملک میں خرچ نہ کرتے تو شاید ہمارے ملک کی سڑکوں اور گلیوں میں اس وقت لاکھوں کوڑھی پھر رہے ہوتے۔

اور دنیا نے ہم پر اپنے دروازے بند کر دیے ہوتے۔ ہمارے ملک میں کوئی آتا اور نہ ہی ہم کسی دوسرے ملک جا سکتے۔ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں چنانچہ ہمیں ان کی ایوارڈز سے بڑھ کر تکریم کرنا ہو گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here